دل شکستہ ہوئے رسوا ہوئے بدنام ہوئے

دل شکستہ ہوئے رسوا ہوئے بدنام ہوئے
کون کہتا ہے کہ ہم عشق میں نا کام ہوئے

دیکھئے خوبئ تقدیر ہمارے آنسو
پہلے الزام بنے پھر یہی انعام ہوئے

کیوں نہ محبوب ہو رسوائی دنیا ہم کو
پہلے ہم خاص تھے اب شکرِ خدا عام ہوئے

وہ شب و روز کہ جب کام کسی یاد سے تھا
نذر سب آج تیرے اے غمِ ایام ہوئے

حاصلِ عمر یہی لذتِ گریہ ٹھہری
یوں تو ہونے کو بہت سے غم و آلام ہوئے

تھک کے خاموش ہوئی جاتی ہے دل کی دھڑکن
آبھی جاؤ کہ بہت دیر ہوئی شام ہوئے

لے گیا صبر و سکوں کوئی میرا الفت میں
رہ گئے غم تو وہ سارے ہی میرے نام ہوئے

یوں رہے کشمکشِ وہم و یقیں میں سرور
جب یقیں حد سے بڑھا بندہ اوہام ہوئے

  1. ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں.
  1. No trackbacks yet.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: